Colors for the Fool

آج کا خوش قسمت رنگ، ٹیرو سے

ایک کارڈ نکالیے / دنیا

دنیا، مدھم سرمئی۔ رنگ بیچ کے آئینے میں ابھرتا ہے۔

مدھم سرمئی

الٹا · #696969

کارڈ پر رقاصہ کی گول راہ چکر تو لگاتی ہے مگر بند نہیں ہوتی۔ غار کا ہار، اوپر سے کھلا، آخری گرہ کا منتظر ہے، وہ واحد کھنچاؤ جو سب چیزوں کو وحدت میں باندھ دیتا۔ مگر ہاتھ چھوڑ دیتا ہے۔ فیتہ ڈھلک جاتا ہے، اور ادھورے نقش دنیا کے تصوراتی کنارے سے بہت آگے تک گونجتے ہیں۔ چار نگران، شیر اور بیل، عقاب اور فرشتہ، اپنے کونوں میں رکے ہیں، ان کا صبر بادلوں سے گھنی ہوا میں پھیلا ہوا۔ یہ تکمیل اور اس کے بعد آنے والی چیز کے بیچ کی سرحدی زمین ہے، ایک گزرگاہ جو قدم کے بیچ رک جاتی ہے۔

یہاں، انجاموں کے سائے میں، منظر ایک ایسے آسمان تلے پھیلا ہے جو اپنی بارش روکے ہوئے ہے۔ ہوا گیلی سلیٹ کی بو سے بوجھل ہے، اس قسم کا دن جب کسی قصبے کی پتھریلی گلیوں پر دھند نیچی چمٹی رہتی ہے۔ چھتیں، بھیگی اور کھردری، طوفان اور دھوپ کے بیچ کے وقفے کا نشان ہیں۔ ان گلیوں میں کھڑکیوں کے شیشوں کے پیچھے چراغ کی روشنی مدھم دمکتی ہے، ایسے موسم سے نرم جو کبھی پوری طرح صاف نہیں ہوتا۔ کہیں ایک دریا پتھر جڑے پشتوں کے پاس سے پھسلتا ہے، پانی اپنی سب سے نچلی سطح پر، بادل کے سوا کچھ منعکس نہیں کرتا۔

تاریخ ان چیزوں میں بستی ہے جو دیر تک چلنے کے لیے بنیں۔ شہر کے دل سے دور ایک لوہار کی دکان میں سندان اور ہتھوڑے بنچوں پر آرام کرتے ہیں، ان کی سطحیں کام اور انتظار سے گھس کر ہموار۔ بھٹی ٹھنڈی ہے، اور کوئی تپش نہیں اٹھتی، مگر اوزار ہر ضرب یاد رکھتے ہیں، ہر وہ ادھورا کام جو برسوں کی گرد جمع کرنے کو چھوڑ دیا گیا۔ دروازے کے پاس ایک ریک پرانے پھاوڑے اور کھرپے سنبھالے ہوئے ہے، ان کے پھل مٹی اور وقت سے کند، دستے ان ہاتھوں سے چمکے ہوئے جو اب نہیں رہے۔

باہر کے کھیتوں میں موسم ٹھہرا ہوا ہے۔ زیتون کے درختوں کی قطاریں ابر آلود آسمان تلے کھڑی ہیں، ان کے تنے مروڑے ہوئے، پتے بے حرکت ہوا میں کپکپاتے ہوئے۔ قدیم جھنڈوں میں لوگ ہمیشہ آنے والی نسلوں کے لیے بوتے آئے ہیں، کبھی ہاتھ کی فصل کے لیے نہیں۔ زیتون زمین پر پڑے ہیں، نہ پوری طرح پکے نہ پوری طرح گرے، نشوونما اور زوال کے توازن میں پھنسے ہوئے۔ کائی پتھر کی دیواروں پر رینگتی ہے، ان لکیروں کو ٹٹولتی ہوئی جو کبھی حدیں تھیں، اب یاد سے کھو گئیں۔

گھر میں آتش دان جھاڑ دیا گیا ہے، مگر آگ ابھی نہیں جلائی گئی۔ میز پر ڈھلے ہوئے لوہے کی ایک دیگچی منتظر ہے، دہائیوں کے کھانوں سے پختہ، اس کی سطح ہزاروں دھیمی آنچ پر پکے شوربوں سے ماند۔ باورچی خانے کی دراز میں ٹین کا ایک چمچہ ماچس کی ڈبیا کے پاس پڑا ہے، دونوں تیاری میں رکھے ہوئے، کسی کو عمل کے لیے نہیں پکارا گیا۔ کاٹنے کے تختے پر روٹی کل کی ہے، گھنی اور چبانے والی، پپڑی گھنٹے گزرنے کے ساتھ نرم ہوتی ہوئی۔

باہر موسم سانس روکے ہوئے ہے۔ صبح ایک باریک، مسلسل پھوار سے کھلتی ہے، دنیا کو پرانے پتھر اور گیلی چھال کی بو سے بھرتی ہوئی۔ پگڈنڈی کے ساتھ گاڑیوں کی چھوڑی ہوئی لیکوں میں گڑھے جمع ہوتے ہیں، ان کی سطحیں قطرے گرنے پر کانپتی ہیں۔ ہوا کپکپاتی ہے، غیر یقینی کہ گرم ہو گی یا ٹھنڈی۔ مسافر سلیٹی بادلوں تلے ہچکچاتے ہیں، غیر یقینی کہ سفر پھر شروع ہو گا یا واپس پلٹے گا۔

آج آپ بارش کے بعد پرانی گلیوں میں چل سکتے ہیں، دور کے قدموں کی بازگشت سنتے ہوئے۔ آپ کوئی خاندانی ورثہ چمکا سکتے ہیں، ایک دستہ، ایک پھل، ایک گھسا ہوا سکہ، ان ہاتھوں کو یاد کرتے ہوئے جنہوں نے اسے صورت دی۔ آپ ایک ہانڈی آہستہ آہستہ ہلا سکتے ہیں، خاموش باورچی خانے میں خوشبو کو اٹھنے دیتے ہوئے۔ یا کھڑکی کے پاس بیٹھ کر ایک ایسا خط لکھ سکتے ہیں جو بھیجا نہ جائے، لفظ انجام سے عین پہلے چکر کاٹتے ہوئے۔

آج کا خوش قسمت رنگ مدھم سرمئی ہے۔
Lucky Color: DimGray — #696969رکیے، اور دنیا کے ساتھ انتظار کیجیے۔
تکمیل کبھی کبھی رک جانے میں ملتی ہے۔

واپس — دنیا