Colors for the Fool

آج کا خوش قسمت رنگ، ٹیرو سے

ایک کارڈ نکالیے / عاشق

عاشق، عنابی۔ رنگ بیچ کے آئینے میں ابھرتا ہے۔

عنابی

الٹا · #800000

دونوں ہستیوں کے بیچ، ان کے سروں کے اوپر ایک پھل بوجھل سا لٹک رہا ہے۔ ان کا رخ درخت کی طرف ہے، جس کی شاخیں ان کے بیچ کی خاموشی میں بل کھا رہی ہیں۔ باغ کا پتھر ان کے قدموں تلے ٹھنڈا ہے، مگر کوئی بھی دوسرے کی طرف قدم نہیں بڑھاتا۔ ان کے ہاتھ نہیں چھوتے۔ سائے لمبے جھکے ہوئے ہیں، ان کی شکلیں تقریباً ایک دوسرے کو چھوتی ہوئی، مگر ہمیشہ ایک انچ کے فاصلے پر۔ لفظ ان کے ہونٹوں پر بنتے ہیں اور یوں غائب ہو جاتے ہیں جیسے باغ نے خود انہیں نگل لیا ہو۔

ان کے بیچ میز پر ایک انار رکھا ہے، پھٹا ہوا۔ اس کے دانے، یاقوت جیسے روشن اور گچھوں میں جڑے، اپنی جھلی میں تاریخیں سنبھالے ہوئے ہیں: قدیم درباروں میں دیے گئے تحفے، پرسیفونی کی دیومالا میں چھپا وعدہ، ایک ایسے سوال سے پہلے کا ٹھہراؤ جو کبھی پوچھا ہی نہیں جاتا۔ کبھی بحیرۂ روم سے گزرنے والے عاشق یہ دانے نذرانے کے طور پر زمین میں دباتے تھے، یہ مانتے ہوئے کہ نئی جڑیں بل کھا کر ملاپ بن جائیں گی۔ یہاں انار اچھوتا پڑا ہے، اور خاموشی شام کی طرح جمع ہو رہی ہے۔

باغ کی دیوار کے پار بارشوں کا موسم قریب آ رہا ہے۔ جنوبی امریکا کے پہاڑی علاقوں پر بادلوں کی چادریں لڑھکتی آتی ہیں، اور آسمان اتنا گاڑھا کر دیتی ہیں کہ ہوا بوجھل لگتی ہے۔ گاؤں میں لوگ گنڈاسے اور ٹوکری سے کوکو کی پھلیاں جمع کرتے ہیں۔ بیج نکالنے کے بعد انہیں کیلے کے پتوں تلے خمیر اٹھنے کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دن ایک مرطوب خاموشی میں گزرتے ہیں، اور جب بیج تیار ہو جاتے ہیں تو انہیں ہاتھ سے بھونا جاتا ہے۔ باورچی خانوں میں بھنے ہوئے بیج پتھر کے بیچ پیسے جاتے ہیں، اور ایسی گہری خوشبو چھوڑتے ہیں جو ہر دراڑ کو بھر دیتی ہے۔ پھر بھی اس گھر میں چاکلیٹ کی ڈلی ان ٹوٹی پڑی ہے، پاس ہی چھری، اور دعوت بے جواب ٹھہری ہوئی ہے۔

دور کی بندرگاہوں میں پرانے جہاز کبھی منطقۂ حارہ سے مصالحے اور کپڑا لاتے تھے۔ سامان میں مخمل کے تھان بھی جہاز کے تہ خانے میں تہ کیے ہوتے، رات جیسے گہرے اور گداز۔ ایسا کپڑا رسمی چغوں کا پردہ، قربان گاہ کا غلاف، یا ان صندوقوں کا استر بنتا جن میں خاندانی راز رکھے جاتے۔ یہ کپڑا چھونے کی دعوت دیتا تھا، مگر یہاں یہ صرف آرام کرسی کے غلاف کے طور پر استعمال ہوتا ہے، ہموار کیا ہوا مگر جس پر کبھی بیٹھا نہیں گیا، آرام کی طرف ایک اشارہ جسے کسی نے اپنایا نہیں۔

کیریبین کے کسی جنگل کی چھتری تلے موسم اتنا اچانک بدل سکتا ہے کہ ہوا تاریک ہو جائے اور پرندے خاموش ہو جائیں۔ طوفان سے پہلے کی خاموشی میں دنیا ایک دبا ہوا تماشا گھر ہوتی ہے، انتظار بادل اور پتے میں تھما ہوا۔ وہ معلق لمحہ، جب کوئی چیز خاموشی نہیں توڑتی، ان دونوں کے بیچ کا خلا ہے۔ نہ بجلی، نہ بارش، بس خاموش انتظار، ایک ٹلا ہوا فیصلہ، جیسے جنگل خود ایک ایسے لفظ کے لیے کان لگائے ہو جو کبھی بولا نہیں جائے گا۔

کھڑکی میں گڑہل کے پھولوں کا ایک گملا رکھا ہے، شام اترنے کے ساتھ پنکھڑیاں اندر کو سمٹی ہوئی۔ کچھ لوگ مانتے ہیں کہ ان پھولوں کو پانی میں بھگونے سے ایک ایسا مشروب بنتا ہے جو جان ڈال دیتا ہے، تھکے دلوں کی دوا۔ کیتلی چولہے پر ہے، مگر پانی ٹھنڈا ہے۔ پنکھڑیاں سمٹتی رہتی ہیں، نہ گرمی نے انہیں چھوا ہے نہ امید نے۔

اگر آپ کے باورچی خانے میں انار ہو تو اسے توڑ کر دانوں کا مزہ لیجیے، چاہے اکیلے ہی چکھیں۔ گہری چاکلیٹ کا ایک چوکور ٹکڑا توڑ کر زبان پر پگھلنے دیجیے، اور دیکھیے کہ کڑواہٹ کیسے گہری ہوتی اور پھر نرم پڑ جاتی ہے۔ آرام کرسی سے مخمل کی چادر کھینچ کر کندھوں پر لپیٹ لیجیے، اور اس کے وزن کو لمس کی یاد دلانے دیجیے۔ اگر آپ کے پاس گڑہل ہو تو ایک پیالی بنا کر دھیرے دھیرے پیجیے، یہ جانتے ہوئے کہ کچھ چیزیں اپنے وقت پر ہی سب سے اچھی طرح کھلتی ہیں۔

آج کا خوش قسمت رنگ عنابی ہے۔
Lucky Color: Maroon — #800000یہ دن صابر نذرانوں کا ہے، خاموشی میں بھی۔
پھل کو اپنی گھڑی میں پھٹنے دیجیے۔

واپس — عاشق