ایک شخص ایک ٹھنڈے کمرے میں بیٹھا ہے، اپنی ہتھیلی میں ایک ایسی چیز تھامے جو کبھی اختیار سے چمکتی تھی: ایک بھربھرا تاج، بادشاہوں کی ہڈیوں جتنا پرانا، اس کی سطح برسوں ان دیکھے رہنے سے گھسی اور گڑھوں بھری۔ دھول کے ذرے اوپر چکر کاٹتے ہیں۔ نئی فجر کے خلاف پردے کس کر کھینچے گئے ہیں، حالانکہ دن کا ہلکا ترین وعدہ کناروں سے جھانکنے کی کوشش کرتا ہے۔ باہر کی دنیا اس لمحے کا انتظار کرتی ہے جب کوئی کھڑکی کھولے گا، مگر اندر کا ہاتھ تاج چھوڑنے سے انکار کرتا ہے، ماضی اور مستقبل کے بیچ کا دروازہ یاد اور ہچکچاہٹ سے بند پڑا ہے۔
بہت پہلے، ایک قدیم شہر کے اوپر کی پہاڑیوں میں، مزدور گیلی مٹی میں گھٹنے ٹیک کر زمین سے ایک قیمتی چیز نکالتے: ایک مٹی، ان کی ہتھیلیوں میں گھنی اور بھاری، جسے براعظموں کے پار فنکار اور ٹائلیں بنانے والے بہت قیمتی جانتے۔ دریا کنارے سے وہ اسے ٹوکریوں میں ڈھوتے؛ تاریک تہ خانوں میں کاریگر اسے پیستے، لکڑی کے پیالوں میں ذرات کو تیل سے ملاتے۔ اس سے وہ پلستر اور کینوس پر اولیا، شیاطین اور خالی کھیت بناتے۔ کارخانے کی خاموشی میں مٹی کی خوشبو ٹھہری رہتی، اور مٹی کا دانہ ہر برش کی لکیر پر نشان چھوڑتا؛ ایک ایسا رنگ جو آگ اور سیلاب، سلطنت اور جلاوطنی کو یاد رکھتا تھا۔
پرانے شہر کی ایک اسطورہ ہے: ایک دوشیزہ جس نے ایک حاسد امیر کی پیش قدمی ٹھکرائی تو دیوتاؤں نے اسے ایک خاموش پہاڑی ڈھلوان میں بدل دیا۔ بہار میں جنگلی گھاس اسے ڈھانپ لیتی ہے، مگر جب بارش آتی ہے اور زمین سموں اور جوتوں سے مَتھی جاتی ہے تو پہاڑی کا گوشت پھر ظاہر ہو جاتا ہے: بھرپور، گہرا، نظر انداز کرنا ناممکن۔ کسان، کہانی سے بے خبر، گھاس کی تہہ کاٹتے ہیں اور نیچے سے اینٹیں نکالتے ہیں، اپنے اوزاروں سے چولہے اور تنور بناتے ہیں، ان کی زندگیاں اس سے ڈھلتی ہیں جو زمین دیتی ہے اور جو روک لیتی ہے۔ شہر کی بارش سے دھلی گلیاں یہ کہانی یاد دلاتی ہیں، اینٹیں ایسے نقشوں میں بچھی ہیں جو گھومتے اور ٹوٹتے ہیں، اس تاج کی گونج بنتے جو اب بھی ایک ضدی ہاتھ میں جکڑا ہے۔
ایک خانقاہ کے کتب خانے سے نکلا ایک سوداگر کا کھاتہ دور کی بندرگاہوں اور شہر کے بازار کے بیچ کھینچے گئے راستے درج کرتا ہے، نمک، شراب اور لٹھے کے بدلے اس رنگ کے آنے جانے کو لکھتا ہے۔ کبھی کیچڑ اب بھی گیلی پہنچتی، موم لگے کپڑے میں لپٹی۔ کبھی وہ پیس کر بند مرتبانوں میں رکھی جاتی، کسی معمار یا مصور کے ہاتھوں میں دوبارہ جنم لینے کو تیار۔ کھاتے کی روشنائی مدھم ہے، مگر تجارت کا وزن ٹھہرا ہے؛ ایک ایسی تجارت کا ثبوت جو چھوڑتی نہ تھی، چاہے نئی سڑکیں اور حکمران آتے جاتے رہے۔ شہر کے باورچی خانوں میں روٹی پرانے مٹی کے تنوروں میں پکتی ہے، ان کی سطحیں صدیوں کے استعمال سے جھلسی ہوئی، ان گنت ہاتھوں کی تپش اور صبر ایک ایسا ذائقہ دیتا ہے جو کہیں اور نہیں ملتا۔
پرانے کو سڑاند میں بدلنے سے بچانے کے لیے کوئی ہاتھ سے روٹی کا آٹا گوندھ سکتا ہے، آٹے اور پانی کی ضد کو گرمی کے آگے جھکتے محسوس کرتے ہوئے۔ وہ بارش ہو یا دھوپ، کسی پہاڑی ڈھلوان تک چل کر ان راستوں کو ٹٹول سکتا ہے جہاں جنگلی گھاس پتلی اگتی ہے، جہاں مٹی جھانکتی ہے۔ کارخانے میں، نئی تصویر کے لیے سطحیں تیار کرتے ہوئے، کوئی مٹھی بھر مٹی پیس سکتا ہے، یاد رکھتے ہوئے کہ ہر تہہ ایک اختتام بھی ہے اور ایک آغاز بھی۔ یا طلوعِ آفتاب سے پہلے کی خاموشی میں وہ کھڑکی کے پاس رک سکتا ہے، انگلیاں اب بھی کسی پرانی یادگار کے گرد مڑی ہوئی، اور خود سے پوچھ سکتا ہے کہ فجر کو اندر آنے دینے کا کیا مطلب ہو گا۔
آج کا خوش قسمت رنگ جلی مٹی ہے۔
Lucky Color: Sienna — #A0522Dمٹی کو تھامیے، چھوڑ دیجیے، یا اسے نئے سرے سے ڈھالیے۔